آفتاب عالم شاہ نوری

1161

Zenét készítette: AFTAB ALAM PATEL KAROSHI Suno AI

آفتاب عالم شاہ نوری
v3.5

@AFTAB ALAM PATEL KAROSHI

آفتاب عالم شاہ نوری
v3.5

@AFTAB ALAM PATEL KAROSHI

Dalszöveg
اُس کی بستی سے کبھی اپنی سواری جائے
میں اُسے دیکھ لوں اور دل کی خُماری جائے

خود کو ڈھوتے ہوئے میں نے کئی صدیاں کاٹیں
اب میرے کاندھے سے یہ لاش اُتاری جائے

وحشتیں ہونے لگیں شہر کی اِن گلیوں میں
کسی ویرانے میں اب عمر گزاری جائے

لوگ جاتے ہیں امیروں کے گھروں پر ایسے
جیسے مسجد کی طرف کوئی بھِکاری جائے

اِس لئے بھیڑ میں تنہائی کا شیدا ہوں میں
مطلبی یاروں کی اب زِیست سے یاری جائے

رب سے ہر لمحہ دعا کرتا ہے عالم بھی یہی
حالتِ سجدہ ہو اور جان ہماری جائے
A zene stílusa
غزل

Talán tetszene

Kapcsolódó lejátszási lista