آفتاب عالم شاہ نوری

1141

تم إنشاء الموسيقى بواسطة AFTAB ALAM PATEL KAROSHI باستخدام Suno AI

آفتاب عالم شاہ نوری
v3.5

@AFTAB ALAM PATEL KAROSHI

آفتاب عالم شاہ نوری
v3.5

@AFTAB ALAM PATEL KAROSHI

كلمات
اُس کی بستی سے کبھی اپنی سواری جائے
میں اُسے دیکھ لوں اور دل کی خُماری جائے

خود کو ڈھوتے ہوئے میں نے کئی صدیاں کاٹیں
اب میرے کاندھے سے یہ لاش اُتاری جائے

وحشتیں ہونے لگیں شہر کی اِن گلیوں میں
کسی ویرانے میں اب عمر گزاری جائے

لوگ جاتے ہیں امیروں کے گھروں پر ایسے
جیسے مسجد کی طرف کوئی بھِکاری جائے

اِس لئے بھیڑ میں تنہائی کا شیدا ہوں میں
مطلبی یاروں کی اب زِیست سے یاری جائے

رب سے ہر لمحہ دعا کرتا ہے عالم بھی یہی
حالتِ سجدہ ہو اور جان ہماری جائے
النمط من الموسيقى
غزل

قد ترغب

غلاف الاغنية Ostatni kurs
v5

تم الإنشاء بواسطة Jerzyna K باستخدام Suno AI

غلاف الاغنية Ki vagyok Neked
v4

تم الإنشاء بواسطة Tamásné Gyüre باستخدام Suno AI

غلاف الاغنية Сняла твоё имя
v4

تم الإنشاء بواسطة Наталья Гудкова باستخدام Suno AI

غلاف الاغنية Open Sky Star
v4

تم الإنشاء بواسطة Rita Rochlitz باستخدام Suno AI

قائمة التشغيل ذات الصلة

غلاف الاغنية Громозад и письмена
v5

تم الإنشاء بواسطة MrKomSS باستخدام Suno AI

غلاف الاغنية Fombabougou Ɲɛsigi
v4

تم الإنشاء بواسطة Fama Gang باستخدام Suno AI

غلاف الاغنية Mari jose
v4

تم الإنشاء بواسطة Antonio jose Gonzalez alonso باستخدام Suno AI