[Verse 1] تیری انگلیوں سے رستا ساز خاموشی میں بنتا انداز ہر تار پہ اک یاد جڑی دل بولے، تو سمجھے آج
[Chorus] تیری دھن میں کھو جاؤں یوں لگتا ہے جی جاؤں ہر موڑ پہ تو ہی تو ہے اُود کی مہکی سی صدا میں میں خود کو پھر پاؤں
[Verse 2] مدھم سا اندھیرا سا کمرا دیواروں پہ سایوں کا رقص تو بیٹھا ہے جھک کر چُپ چاپ میں سنتا ہوں اندر کا عکس
[Chorus] تیری دھن میں کھو جاؤں یوں لگتا ہے جی جاؤں ہر موڑ پہ تو ہی تو ہے اُود کی مہکی سی صدا میں میں خود کو پھر پاؤں
[Bridge] اک ایک سر میں چھپا سوال کون ہوں میں، کیا ہے مآل جب تو بجھے، سب مٹ جائے جب تُو چلے، میں ہوں بحال (اوہ)
[Chorus] تیری دھن میں کھو جاؤں یوں لگتا ہے جی جاؤں ہر موڑ پہ تو ہی تو ہے اُود کی مہکی سی صدا میں میں خود کو پھر پاؤں
A zene stílusa
Warm acoustic Arabic-Urdu fusion built around expressive oud phrases and soft percussion; male vocals intimate and close-mic’d. Verses stay hushed over sparse plucked patterns, then chorus swells with doubled vocals and subtle string pads. Oud takes short melodic fills between lines, ending on a lingering, reverb-kissed outro lick.