เนื้อเพลง
[Verse]
میں تمہیں اپنے دل میں رکھوں گا
یہ نعت میری زباں پہ ہوگی
یہ پردہ میرا انداز ہے
میرے خوابوں کی پہچان ہوگی
[Chorus]
تیری آنکھیں کیوں ملی
مجھے کیوں آگ لگائی
یہ حسن میرا عشق ہے
یہ دل کی گہرائی
[Verse 2]
تمہارے قدموں کے نشان
میرے راستوں کے چراغ ہیں
یہ لمحے چپ چپ سسکتے ہیں
یہی زندگی کے سراغ ہیں
[Chorus]
تیری آنکھیں کیوں ملی
مجھے کیوں آگ لگائی
یہ حسن میرا عشق ہے
یہ دل کی گہرائی
[Bridge]
اب درخت کو چپ چاپ دیکھتا ہوں
ہوا کے سنگ کوئی بات کہتا ہوں
تمہاری خوشبو میرے ساتھ چلتی ہے
ہر سایہ تیرا نام لیتا ہے
[Chorus]
تیری آنکھیں کیوں ملی
مجھے کیوں آگ لگائی
یہ حسن میرا عشق ہے
یہ دل کی گہرائی