เนื้อเพลง
[Verse]
چلتے رہے خیال میں ہم خواب کے لیے
ہر موڑ پر رکے دل، اک جواب کے لیے
منزل کا نام لیتے تو رستے ہنس پڑے
ہم تھک چکے تھے چل کے، اک آب کے لیے
[Chorus]
خواب، خواب، خواب کے لیے
دل کو جلایا، راکھ کے لیے
ہر سانس ادھوری، بات کے لیے
خواب، خواب، خواب کے لیے
[Verse 2]
جو وقت روٹھ جائے تو لمحے بھی چپ رہیں
کیا بولنا ضروری ہے، حس کے لیے کہیں
دھوپ سے جھلسا جسم، سایہ مانگے
پھر بھی چلتے رہے، ہر گناہ کے لیے
[Chorus]
خواب، خواب، خواب کے لیے
دھوکہ کھایا، راہ کے لیے
ہر قدم کا درد، ساتھی کے لیے
خواب، خواب، خواب کے لیے
[Bridge]
آسمان نے سر جھکایا، زمین نے سنا
ہر خواب میں چھپا تھا، اک دل کا گنا
آنکھوں نے کہا، تھک گئے ہیں ہم
پر دل نے کہا، یہ آخری قدم
[Chorus]
خواب، خواب، خواب کے لیے
دل کو جلایا، راکھ کے لیے
ہر سانس ادھوری، بات کے لیے
خواب، خواب، خواب کے لیے