[Verse 1] وقت کی دھیمی چال میں ہم تھوڑا سا رُک گئے کھوئے ہوئے لمحوں کو پھر سے ہم لکھ گئے
تنہائی بھی اب مجھ سے باتیں سی کرنے لگی تیری یاد کی روشنی اندھیروں میں جلنے لگی
[Chorus] تو ہی ہے، تو ہی رہے سانسوں کے بیچ چھُپا ہر شے میں تیرا عکس ہر موڑ پہ تُو ملا
خوابوں کی کھڑکی کھول پاس ذرا آ کے دیکھ بند ہوئے تھے جو لفظ آنکھوں سے ہونے لگے
[Verse 2] خاموشیوں کے کمرے میں اک چہروں والا ہجوم تیری ہنسی کی بازگشت ہر دیوار پر ہے مقیم
پُرانی سی اس ڈائری میں اک تازہ درد لکھا ہے تیرا نام مِٹتا ہی نہیں ہر صفحے پر کھِنچا ہے
[Chorus] تو ہی ہے، تو ہی رہے سانسوں کے بیچ چھُپا ہر شے میں تیرا عکس ہر موڑ پہ تُو ملا
خوابوں کی کھڑکی کھول پاس ذرا آ کے دیکھ بند ہوئے تھے جو لفظ آنکھوں سے ہونے لگے
[Bridge] کیا یہ جدائی کم ہو سکتی؟ کیا تُو پل بھر لوٹ سکے؟ میں نے دل کے ہر رستے پر تیرا ہی پتہ لکھ دیا
[Chorus] تو ہی ہے، تو ہی رہے سانسوں کے بیچ چھُپا ہر شے میں تیرا عکس ہر موڑ پہ تُو ملا
خوابوں کی کھڑکی کھول پاس ذرا آ کے دیکھ بند ہوئے تھے جو لفظ آنکھوں سے ہونے لگے
Стиль музыки
Airy Urdu pop ballad with male vocals; soft piano arpeggios and warm pads under an intimate verse, then drums and bass bloom gently in the chorus. Subtle acoustic guitar doubles the hook; light strings rise in the bridge for lift and fall back to just keys and voice on the final line. Reverb-kissed backing harmonies echo key phrases of the chorus.