Letra da música
[Verse 1]
رات کی مٹی، ہاتھوں میں
سایہ سا اک، ساتھوں میں
سانس بھی ڈر کر رُک جائے
جب تیرا نام ہو راکھوں میں
دل کے صحن میں، خاموشی
پاؤں تلے ہے، بے ہوشی
چاند نہیں، بس زخم کھلا
اُترتی جائے یہ سناٹی
[Pre-Chorus]
آہستہ آہستہ، ٹوٹ رہا
میرے اندر جو، سو رہا
دھڑکن دھڑکن، دور کہیں
کوئی پرانا رُو رہا
(ہائے ہائے، جاناں)
(ہائے ہائے، جاناں)
[Chorus]
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
میرے سینے میں، آگ سا توہَ
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
تو ہی بتا، میں کیسے جیوَں
(ہائے ہائے، ہائے ہائے)
(رات کا نوحہ)
[Verse 2]
ریت کے اوپر، نام لکھا
پھر بھی ہوا نے، سب مٹایا
میں نے تجھے جب، یاد کیا
اپنے ہی ہاتھوں، خود کو جُلایا
دور کہیں وہ، بانسری سی
یا کسی ماں کی، آہ سہی
پتھر کے پیچھے، چھپ کے بھی
میری صدا نے، راہ سہی
[Pre-Chorus]
آہستہ آہستہ، ٹوٹ رہا
میرے اندر جو، سو رہا
دھڑکن دھڑکن، دور کہیں
کوئی پرانا رُو رہا
(ہائے ہائے، جاناں)
(ہائے ہائے، جاناں)
[Chorus]
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
میرے سینے میں، آگ سا توہَ
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
تو ہی بتا، میں کیسے جیوَں
(ہائے ہائے، ہائے ہائے)
(رات کا نوحہ)
[Bridge]
اگر یہ جنگل، بول پڑے
اگر یہ پتھر، کھول پڑے
تو میری ہڈیوں سے بھی
تیرا غم باہر ڈول پڑے
میں نے تو بس، چپ سہی
تو نے سنی یا، نہ سہی
پھر بھی تیرے نام کی دھُن
میرے لہو میں، رہ گئی
(ہائے ہائے، ہائے ہائے)
(ہائے ہائے، جاناں)
[Final Chorus]
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
میرے سینے میں، آگ سا توہَ
رات کا نوحہ، رات کا نوحہ
تو ہی بتا، میں کیسے جیوَں
(ہائے ہائے، ہائے ہائے)
(رات کا نوحہ)
Estilo de música
Dark tribal cinematic folk with slow, brooding pulse and heavy ceremonial drums; verse rides low cello drones and sparse frame hits, pre-chorus lifts with rising chants and bowed string tension, chorus opens wider with deep Taiko strikes and stacked male lead with haunting solo female lament in the background, bridge strips to voice and distant drum before the final lift. Close-mic intimate lead, wide cavern reverb, reversed swells and low sub rumble between phrases, gritty and ancient mix., vocal, deep, low, cello