Letra da música
عاشق ہوں میں نبی کا عاشق ہوں میں نبی کا اس دل پہ کیسے چڑھ جائے رنگ ہر کسی کا
صدیق اور عمر کی عثماں کی یہی چاہت ہے جان اک سبھی کی یعنی وہ جان رحمت میدان بدر میں ہے نعرہ ہے یہ علی کا
بابا کی گود میں جو بچہ سسک رہا ہے چھونے کو اس کے لب کو کوثر ترس رہا ہے انداز کوئی دیکھے اصغر کی تشنگی کا
بھارت کا اصلی حاکم دہلی میں کب رہتا ہے بھارت کا اصلی راجا اجمیر میں لیٹا ہے کہتے ہیں اس کو خواجہ بھارت ہے یہ اسی کا
بغداد کا وہ دولھا مردے جلا رہا ہے بارہ برس کی ڈوبی کشتی تیرا رہا ہے وہ غوث جن کے قدموں میں سر ہے ہر ولی کا
ہو کر مرید ان کا دل ان پہ ہار آیا اک بار جس نے دیکھا دل میں اتار لایا چہرہ تھا ایسا شان عرب میرے پیر ازہری کا