خوش آمدید اے رہبرِ ملت، خوش آمدید تیرے قدموں کو، ہے سر زمینِ جرّاں والا کی، نذرِ عقیدت، خوش آمدید (دوسرا بند) تُو وارثِ حق، تُو حق کی صدا تُو پیغامِ عشقِ مصطفیٰ ہر دل میں بسا، ہر لب پہ دعا تیری آمد سے روشن ہوا، جرّاں والا کا ہر ایک دیار خوش آمدید اے رہبرِ ملت، خوش آمدید (تیسرا بند) تیرے عزم کو سلام ہے، تیرے حوصلے کو سلام ہے تُو آیا ہے تو امید جاگی ہے، ہر ایک دل کو آرام ہے تیری رہ میں ہم سب ہیں یوں، ایک قافلہ، ایک سمت میں خوش آمدید اے رہبرِ ملت، خوش آمدید